کاروار،28 ؍ستمبر (ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے کسان ،مزدور اور عوام مخالف پالیسیوں اور قوانین کے خلاف آج مختلف تنظیموں کی جانب سے ’کرناٹکابند ‘ منانے کی اپیل کی گئی تھی اس کے تحت شمالی کینرا میں کئی مقامات پر راستہ روکو ، ریالی اور احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا۔
کاروار میں آل انڈیا کوآرڈینیشن آف فارمرس موومنٹ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرا کیا گیا۔شہر کے ’رنگ مندر‘کے پاس جمع ہونے کے بعد مظاہرین نے مرکزی اور ریاستی حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور نیشنل ہائی وے پر’لندن برڈج‘ کے پاس دھرنا دیتے ہوئے راستہ روکو احتجاج کیا۔اس کے بعد ڈپٹی کمشنر کو میمورنڈم سونپتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کسانوں اور ملک کے مفادات کے خلاف جو ترمیمی قوانین پاس کیے گئے ہیں ان کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے یمونا گاؤنکر نے کہا کہ جمہوریت کے اصولوں اور قوانین کو طاق پر رکھتے ہوئے متعلقہ عوام کے طبقات سے رائے مشورہ کیے بغیر دیش کے کسانوں اور%90 باشندوں کے مفادات کو پوری طرح نقصان پہنچانے والا زرعی بل کوزبردستی کے ساتھ پارلیمنٹ میں منظور کیا گیا ہے۔اسی طرح کرناٹکا کی ریاستی حکومت نے بھی حالیہ اسمبلی اجلاس میں کسی قسم کی بحث اور مباحثہ کیے بغیر عوام اور اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود کارپوریٹ سیکٹر کو لوٹ کے مواقع فراہم کرنے والے ترمیمی قوانین پاس کردئے ہیں۔ اس کے بہت ہی برے اور منفی نتائج دیش کی آزادی، سلامتی ، عوام کے لئے غذائی تحفظ اور ملک کی صنعت کاری پر پڑنے والے ہیں۔
احتجاجی مظاہرے کے موقع پر راما نائک، جارج فرنانڈیز، راگھو نائک جیسے لیڈروں کے علاوہ یووا کانگریس کے اراکین موجود تھے۔